Wednesday, 28 August 2013

GHAZI AMIR CHEEMA SHAHEED

muslimpersonalities


GHAZI AMIR CHEEMA SHAHEED:
دو ہزار چھے میں جب مغربی ممالک اپنی ناپاک جسارتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اور ان کے اخبارات دھڑا دھڑا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے چھاپنے کی گستاخی کر رہے تھے۔
ایسے میں جرمنی میں موجود ایک پاکستانی نوجوان طالب علم عامر عبداحمن شہید نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو کر ثابت کر دیا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر اٹھنے والی انگلیاں نہیں برداشت کر سکتے،
عامر شہید نے جرمنی کے اس ناپاک اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کر دیا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے چھاپے تھے۔
عامر شہید کو گرفتار کیا گیا اور انھیں جیل میں تشدد کر کر کے شہید کر دیا گیا ۔۔بعد میں الزام لگا دیا کہ انھوں نے خود کشی کی ہے۔۔

اللہ پاک ان کو جنت میں شہدائے بدر کا ساتھ نصیب فرمائے آمین

ان کے استاد محترم کا خواب سنیں

" عامر شہید کے نیک دل اور پاکباز استاد کا چہرہ آنسووں سے تر تھا اور وہ تھم تھم کر رک رک کر عامر شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ کو اپنا خواب سنا رہے تھے۔
میں نے خواب میں ایک بڑا ہی مقدس اور پاکباز اجتماع دیکھا۔ہر سو نور کے فوارے پھوٹ رہے تھے ۔پتا چلا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف فرما ہیں۔
کسی نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریب ہی ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکبو آواز سنائی دی
"عامر آ رہا ہے"
صحابہ کرام کھڑے ہو گئے۔۔ایک خاص سمت دیکھنے لگے۔پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکارا
:حسن (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)، حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) دیکھو کون آیا ہے۔میں اسے تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔اس کا خیال رکھنا۔"

اللہ اکبر۔۔۔جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو گئے۔۔ابھی تو آقا علیہ السلام کو دیکھا نہیں تو یہ حال ہے کہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔۔
جب دیکھیں گے تو کیا عالم ہو گے

سلام ہے عامر شہید کی عظمت کو جنھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں یا والدین بزرگ ہیں یا سامنے ایک عظیم سہانا دنیاوی مستقبل ہے۔۔ٹیکسٹائل انجینرنگ میں جرمنی سے ماسٹرز کرنا روشن مستقبل کی نوید تھی
لیکن انھیں تو دنیا نہیں آخرت عزیز تھے۔
ان شاء اللہ پہنچ گئے وہ اپنے مقام پر